Democrats vs Autocrats

دنیا میں جب بھی کوئی بڑی آفت آتی ہے یا پھر کوئی بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے، تو دنیا میں دو طرح کی مثالیں قائم ہوتی ہیں۔ ایک مثال کامیاب معاشروں یا  پھر لوگوں  کی ہوتی ہے اور دوسری مثال ناکام لوگوں یا پھر معاشروں کی ہوتی ہے۔ عام لوگ اور پوری دنیا کامیاب  معاشروں  کو  ایسے واقعات کے بعد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے طرزعمل کی تعریف کرتے ہیں، ان کے طور طریقوں کو اپنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کامیاب  معاشرے اپنی کامیابیوں کا چرچا کرکے اپنے لیے داد بھی وصول کرتے ہیں اور سب سے بڑھ دنیا میں اپنے رسم و رواجوں اور طور طریقوں کی تبلیغ بھی کرتے ہیں اور دنیا  ان کی اس تبلیغ کو اہمیت بھی دیتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ناکام معاشرے اور لوگ عبرت کا نشان بن جاتے ہیں اور یوں انھے ہر طرف سے دھتکار دیا جاتا ہے۔ کیونکہ دنیا کا اصول چڑھتے سورج کی پرستش ہے۔
اس ساری تمہید کا مطلب و مقصد کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لئے دنیا میں موجود دو بڑے طرز حکومتوں کے اقدامات کا جائزہ لینا ہے۔ یعنی اس سے مراد جمہوری حکومتیں  اور شخصی یا پھر آمرانہ حکومتیں ہیں۔ ان اقدامات کی بنیادی پر یہ اندازہ لگانے کی کوشش  کی جائے گی کہ اس وقت تک کس کی کارکردگی تسلی بخش رہی ہے اور کون اس وبا کے نتیجے میں اپنا وقار و عزت کھو جانے کے درپے ہے ۔آئیے ان سب حقائق کو جاننے اور  پرکھنے کے لئے کیس سٹڈی کی طرف چلتے ہیں۔
اس کیس سٹڈی میں اگر پہلے ان ممالک کا ذکر کیا جائے جو کرونا وائرس کی وبا سے انتہائی بہتر انداز سے نپٹے ہیں یا پھر اس پر کس حد تک کنڑول پا  چکے ہیں تو ان کے نام درجہ ذیل ہیں۔ چین، ویتنام،نیوزی لینڈ اور جرمنی ہیں۔ کچھ اور ممالک بھی ہیں مگر کیس سٹڈی کے لئے دو الگ الگ طرز حکومتوں کے حامل دو دو ممالک  کی مثالیں لی گئی ہیں۔
نیوزی لینڈ اور جرمنی میں جمہوری طرز حکومت ہے۔ دونوں ممالک  نے وبا پر کسی حد تک کنٹرول پا لیا ہے اور دنیا میں انھيں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔نیوزی لینڈ آبادی کے لحاظ سے تقریباً دنیا کا ایک سو پچیسواں جبکہ رقبے کے لحاظ سے چھہترواں بڑا ملک ہے۔ اس ملک میں امن و امان بھی ہے اور یہ ملک دنیا میں کسی بڑے تنازعے میں بھی نہیں  الجھا ہے۔ یوں نیوز لینڈ کے لئے وبا پر کنٹرول پانا بانسبت باقی ممالک کے آسان تھا۔ اگر بات جرمنی کی جائے تو جرمنی میں بھی جمہوری طرز حکومت ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے تقریباً  سترھواں جبکہ رقبے کے لحاظ سے تریسٹھواں بڑا ملک ہے۔ گوکہ اس کی آبادی اور رقبہ بانسبت نیوزی لینڈ کے زیادہ ہیں اور اس کے کچھ گلوبل انٹریسٹ بھی ہیں لیکن پھر بھی یہ ملک  کسی بڑے تنازعے یا پھر اندرونی مسئلے   کا شکار نہیں ہے۔  اس لیے اسے  بھی وبا پر قابو پانا قدر آسان تھا۔
چین اور ویتنام دو ایسا ممالکِ ہیں جہاں آمرانہ طرز حکومت ہے۔ ان ممالک میں ون پارٹی ون سسٹم ہے۔ یہ ممالک بہت سارے اندرونی اور بیرونی مسائل کا شکار بھی ہیں۔ چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا جبکہ رقبے کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک ہے۔ چین عالمی طاقت بننے کی دوڑ میں بھی ہے یوں اس ملک کا وبا پر کنٹرول پا لینا محو حیرت میں ڈال دینے والی حقیقت ہے اور اس کی قیادت داد وصول کرنے کی بھی حقدار بنتی ہے۔ اگر بات ویتنام کی کی جائے تو ویتنام آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پندرہواں جبکہ رقبے کے لحاظ سے ستاسٹھواں بڑا ملک ہے۔ یہ بھی مسائل میں گہرا ملک ہے،امریکہ سے جنگ بھی لڑ چکا ہے،آبادی اور رقبہ بھی کیس سٹڈی میں شامل دونوں جمہوری ممالک سے زیادہ ہے۔یوں یہ ملک بھی وبا پر کنٹرول پانے کے حوالے سے تعریف کا حقدار ہے۔
وبا سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک  کی فہرست طویل ہے لیکن قابل ذکر ممالک میں امریکہ،برطانیہ،انڈیا اور اٹلی شامل ہیں۔ ان ممالک کی ترقیوں کے دنیا میں چرچے ہیں۔ ان ممالک میں عوامی یا پھر جمہوری حکومتوں کا بھی راج ہے۔ لیکن پھر بھی  ہزاروں لوگ  ان ممالک میں وبا کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن چکے ہیں، لاکھوں لوگ  اس وبائی مرض میں مبتلا ہیں۔ اور وبا ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ جمہوری حکومتیں مہو تماشہ ہیں اور عوام مر رہی ہے۔
ایسے میں جبکہ امریکہ اور چین کے درمیان سرد جنگ کی آمد آمد ہے ،دونوں طاقتیں سینگھ پھنسائے کھڑی ہیں۔ باقی دنیا کے لئے فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے کہ وہ کس طاقت کی صف میں کھڑی ہوں تو کیا آمرانہ طرز حکومت والے چین کا عالمی طاقت بننے کا موقف باظاہر مظبوط نہیں ہے؟ جو آج اس وبا کی سختیوں میں بھی دنیا میں مدد کے لئے پہنچ رہا ہے؟ کیا اس وبا پر کنٹرول چین اور آمرانہ طرز حکومت کو آئیڈیل ماننے کے لئے کافی نہیں ہے ایک عام آدمی کے لئے؟ اس عام آدمی کے لئے جسے جمہوریت میں بھی  حقوقِ محض کاغذی حد تک ہی حاصل ہیں؟ً یہ سوال یقیناً موجودہ وقت کا سلگتا مسئلہ ہے؟ اور اس پر بحث بھی لازم ہے لیکن اخلاقیات کے دائروں میں رہتے ہوئے۔
ٹائپنگ کی غلطیوں کے لئے پیشگی معذرت۔
تحریر ثاقب کیانی

Comments

  1. Choun k ye aik pendemic hai aur jin mumalik nay as ko starting main serious liye aur aik decipline se kam liye unho nay tu kafi had tak as per kabo paa liyaa hai. Lakin agr hum weak economic countries ki bat krain tu shaid wahan as tarah k model per amal krna kafi hard hu ga. Per agr strong countries es model pay khud apni economy k through amal krain aur baki globe ok WHO, IMF WB etc aur dusry strong country ki madad se as pandemic ko roka jae tu the world can be safed.

    ReplyDelete
  2. jamori r aamarana k bech ma aak bt talban r Islamic state strategy pa b krni cheya.. ho skta ha us sa hal nikalna ma koi madad mila

    ReplyDelete

Post a Comment